خدّامِ اعلیٰ حضرت

اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلفاء کے ذکرِ خیر کے بعد مناسب ہے کہ اُن کے خوش نصیب خدام کا ذکر ِ خیر بھی کر دیا جائے جنھوں نے شب و روز آپ کی خدمات سر انجام دیں۔مولانا حسنین رضا خان صاحب ’’سیرتِ اعلیٰ حضرت‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں کہ:

خاص خدام کی اگر فہر ست کھولی جائے تو اِس میں تین نام خاص طور پر سامنے آتے ہیں الحاج کفایت اللہ صاحب ،حاجی نذیر احمد صاحب اورجناب ذکا اللہ خان صاحب ۔۔۔

حاجی کفایت اللہ صاحب:

حاجی کفایت اللہ صاحب رنگ سازی میں قلم کا کام خوب کرتے ،بورڈوغیرہ اچھے تیار کرتے تھے ،جوانی میں بیعت ہوئے ،اُس وقت تک اُنکی شادی نہ ہوئی تھی ،بیعت کے بعد انہوں نے شادی ہی نہ کی اور اپنے مرشد کی خدمت اختیار کر لی۔
بیعت ہونے سے لے کر اعلیٰ حضرت کی وفات تک سایہ کی طرح سفر و حضر میں ہر وقت ساتھ رہے حتیٰ کہ یہ اور حاجی نذیر احمد صاحب دوسرے سفرِ حج میں بھی ساتھ ہی تھے۔حاجی کفایت اللہ صاحب کی خدمات تاحیات مسلسل جاری رہیں ، اس تاحیات سے مراد ا علیٰ حضرت کی حیاتِ ظاہر ی نہیں بلکہ حاجی کفایت اللہ صاحب کی زندگی مراد ہے ، اس لئے کہ وہ اعلیٰ حضرت کی وفات کے بعد بھی اُنہی کے قدموں میں پڑے رہے اور وہیں دم دیا اور اب بھی وہ اعلیٰ حضرت کے بائیں جانب دفن ہیں۔
وہ در حقیقت اولیائے سابقین اور علمائے سلف کے خدام کا صحیح نمونہ تھے، اِس دور میں تو وہ اپنے اس طرزِ معاشرت میں اپنا نمونہ آپ ہی تھے۔ کہیں اورایسے پر خلوص خدام نہ دیکھے گئے، وہ بڑے متقی و پر ہیز گار تھے ۔

اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کے بعدبھی ہر وقت مزار شریف پر حاضر رہتے تھے۔ اعلیٰ حضرت نے بعض نقوش کی انھیں اجازت دیدی تھی وہ لوگوں کو لکھ لکھ کر دیتے رہتے، یوں اُن کی ذات سے بھی خدمت ِخلق کا سلسلہ تاحیات جاری رہا ۔

اس قدر غیور تھے کہ ُانھیں کسی سے کچھ لیتے سنا بھی نہیں،اعلیٰ حضرت کے صاحبزادگان اور اِنکے بعض فدائی ممکن ہے کہ حاجی صاحب کی خفیہ امداد کرتے رہے ہوں۔

میری زندگی کی تمام نیکیاں لے لیں:

اعلیٰ حضرت کا وصال 1340ھ 1921ء میں ہوا اور حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد سردار احمد صاحب پڑھنے کے لئے 1344ھ 1924ء کے لگ بھگ بریلی حاضر ہوئے ۔ اس طرح آپ امام احمد رضا کی زیارت و ملاقات نہ کر سکے ،جس کازندگی بھر احساس رہا ، اس کا اظہار یوں ہوتا کہ بارہا آپ حضرت حاجی کفایت اللہ صاحب سے فرمایا کرتے کہ ’’میری زندگی کی تمام نیکیاں لے لیں اور اعلیٰ حضرت کی ایک زیارت ایسی نیکی کا ثواب مجھے دے دیں‘‘۔ (محدث اعظم پاکستان جلد 1از مولانا جلال الدین قادری مطبوعہ مکتبہ قادریہ لاہور ص149)

حاجی نذیر احمد صاحب:

حاجی نذیر احمد صاحب مرحوم چند سال حاجی کفایت اللہ صاحب کے دوش بدوش حاضر خدمت رہے، وہ قوم کے راعین تھے اور شاید زمیندار بھی تھے،انھیں زمیندار ی کے کاموں کی وجہ سے کچھ روز گھر بھی رہنا پڑتا تھا تو اس سنہری موقع کو ذکا ء اللہ خاں صاحب نے ہاتھ سے نہ جانے دیا اور ان کی غیر حاضری میں خالی جگہ اُنہوں نے پرُ کی۔

جنابِ ذکاء اللہ خان صاحب:

جب حاجی نذیر ا حمد صاحب معذور ہو گئے تو ذکاء اللہ خان صاحب اُن کی جگہ آگئے ۔اُن کی حاضری اور خدمت وقتی تھی،وہ معاش کی ضرورتوں سے جب فرصت پاتے تو آتے۔

حاجی خدا بخش صاحب:

اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خدام میں خدابخش مرحوم بھی تھے،ہمارے خاندان اور بعض دیگر اہلِ محلہ میں پانی بھرتے تھے۔ اعلیٰ حضرت کے گھر کی ملازم عورتیں اور باہر کے ملازم مرد اگر کام کاج کے قابل نہ رہے تو خود گئے یا یہیں مرض الموت میں مبتلا ہوئے اوراگر گھر والے لے گئے تو ان کی وفات پرتنخواہ روزِ رحلت تک کی ادا کی گئی اور جو کچھ امداد ہو سکی وہ کی گئی،کسی خادم کا نکالا جانا مجھے یاد نہیں ہے۔
(سیرتِ اعلیٰ حضرت از مولانا حسنین رضا خان مطبوعہ کراچی ص 132,133)

جنابِ سید ایو ب علی رضو ی صاحب :

’’فدائے رضویت ‘‘ جناب ِمولاناسید ایو ب علی رضو ی صاحب کے ذکرِ خیر کے بغیرخدامِ اعلیٰ حضرت کا ذکرِ خیر مکمل نہیں ہو سکتا۔آپ سیرتِ اعلیٰ حضرت کے حوالے سے بے شمار واقعات کے راوی ہیں۔آئیے !کچھ ان کی شخصیت کے بارے میں بھی جانتے ہیں:

آپ کا سلسلہء نسب کچھ یوں ہے۔۔۔

سید ایو ب علی رضو ی صاحب بن سید شجاعت علی بن سید تراب علی بن سید ببر علی۔۔۔ بریلی شریف میں پیدا ہوئے ،مڈل سکول میں مڈل کرنے کے بعد فارسی کی تعلیم حاصل کی، کچھ عرصہ’’ اسلامیہ سکول‘‘ بریلی میں پڑھاتے رہے، پھر جب اعلیٰ حضرت سے بیعت کا شرف حاصل ہوا تو اپنے آپ کو بارگاہِ رضویت کے لیے وقف کر دیا ۔

لکھائی کا جو کام آپ کے سپر د کیا جاتا اسے حسنِ اہتمام سے انجام دیتے ،رمضان شریف میں سحری اورافطاری کے نقشے مرتب فرماتے،دیگر علوم کے علاوہ ریاضی اور توقیت میں اعلیٰ حضرت سے خوب خوب استفادہ کیا۔

سید صاحب کر بلائے معلیٰ ،بغداد شریف ، نجف اشرف اور بصرہ میں بزرگانِ دین کے مزارت پر حاضری سے بھی مشرف ہوئے ،تین دفعہ حج و زیارت کی سعادت سے بہر ہ ور ہوئے، اڑھائی سال تک مدینہ طیبہ میں قیام پذیر رہے ۔

اعلیٰ حضرت کے وصال کے دو سال بعد بریلی شریف میں ’’رضوی کتب خانہ‘‘ قائم کیا اور اعلیٰ حضرت کے متعدد رسائل شائع کئے۔

اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کے بعد اُن کی سوانحِ حیات مرتب کرنے کی تحریک آپ ہی نے شروع کی تھی ۔’’حیات اعلیٰ حضرت‘‘مؤلفہ مولانا ظفرالدین بہاری صاحب کے اکثر و بیشتر واقعات آپ ہی کی روایات پر مبنی ہیں ۔ مولانا ظفرالدین بہاری صاحب لکھتے ہیں:
’’ہم رضویوں کو جنابِ حاجی مولوی سید ایوب علی صاحب کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اِس کی طرف سب سے پہلے انہوں نے توجہ فرمائی اور برادرانِ طریقت کو بھی توجہ دلائی۔ اُن کی تحریک سے بعض احباب نے کچھ حالات اُن کے پاس لکھ بھیجے اور زیادہ تر حصہ خود سید صاحب موصوف نے لکھا ۔جب اُن کو میرے’’ حیات اعلیٰ حضرت‘‘ لکھنے کی خبر ہوئی تو جو کچھ مواد اُن کے پاس تھا سب مجھے عنایت کر دیا ۔‘‘

مولاناسید ایوب علی صاحب اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فیضِ صحبت سے حد درجہ متاثر تھے ۔تقویٰ و پرہیزگاری میں اپنی مثال آپ تھے، معاملات میں اسقدر محتاط تھے کہ جب تک ایک ایک پیسے کا حساب نہ چکا دیتے مطمئن نہ ہوتے۔

1370ھ 1950ء میں پاکستان آکر لاہور میں قیام پذیر ہو گئے، یہاں بھی ’’رضوی کتب خانہ‘‘ قائم کرکے متعدد رسائل شائع کئے۔ محدثِ اعظمِ پاکستان مولانا سردار احمد صاحب اور حضرت مولانا سید ابوالبرکات شاہ صاحب کے دل میں آپ کی بے حدقدر ومنزلت تھی ، آخری چند سال آپ نے’’ جامعہ رضویہ‘‘ فیصل آباد میں گزارے ۔

قدرت نے آپکو شعر و سخن کا پاکیز ہ ذوق عطا کیا تھا ، حمد و نعت اور منقبت ایسے محبوب موضوعا ت پر عام فہم اور دلنشیں انداز میں اظہارِ خیال کیا کرتے تھے ۔مجموعہء کلام ’’باغ ِفردوس‘‘کے نام سے دوحصوں میں طبع ہو چکا ہے۔ ہر سال عرسِ رضوی پر نئی منقبت لکھ کر پیش کیا کرتے تھے، ایک نعت کے دو بند ملاحظہ ہوں :

ہوئی ختم دن را ت کی آہ و زاری

بہت کی ہے سرکار اختر شماری

نہ ہیں سرد آہیں نہ ہے اشکبار ی

بس اب آپ ہی کے کرم کی ہے باری

لحد میں تھپک کر سلادیجئے گا

شہا ! میری تربت پہ للہ آئیں

نکیرین جس وقت تشریف لائیں

شبیہ مبارک کے جلوے دکھائیں

اور ایوب رضوی کو جب آزمائیں

تو کلمہ نبی کا پڑھا دیجئے گا

اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک منقبت کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

تمہارے لطف و کر م سے آقا، ہوائیں طیبہ کی کھارہا ہوں

جو داغ ِفرقت تھے دل پہ کھائے، وہ رفتہ رفتہ مٹا رہا ہوں

کوئی بغلگیر ہو رہا ہے ،تو کوئی پیشانی چومتاہے

جو نام والا کو سن رہا ہے ،جسے سکونت بتا رہاہوں

سنے جو حالاتِ حاضری تھے ، یہ ان کی تصدیق ہورہی ہے

حرم کے ذی احترام علماء ،تمہارے مدَّاح پا رہاہوں

فقیرِ ایوب قادری کی ،قبول فرما لے منقبت کو

ترے نقیبوں میں بندہ پر ور، ہمیشہ مدح سرارہا ہوں

26رمضان المبارک 1390 ھ بمطابق26نومبر 1970بروز جمعۃ الوداع نماز ِفجر سے قبل آپ کا وصال ہوا اور’’میانی صاحب ‘‘ لاہو ر کے قبرستان میں دفن ہوئے ۔ (تذکرہء اکابرِ اہلسنت ص108)