حلیہ مبارک

حضرت علامہ مولانا محمد منشا ء تابش قصوری صاحب مد ظلہ العالی کی فرمائش پر مولانا حسنین رضا خان رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے آ پ کو اعلٰی حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حلیہءمبار کہ اپنے مکتوب میں تحریر فرماکر بھیجا جو کہ مندرجہ ذیل ہے :

  • ابتدائی عمر میں آپ کا رنگ چمکد ار گند می تھا۔
  • چہر ہء مبار ک پر ہر چیز نہایت موزوں و مناسب تھی۔
  • بلند پیشانی ،بینی مبارک نہایت ستواں تھی۔
  • ہر دو آنکھیں بہت موزوں اور خوبصورت تھیں ۔
  • نگاہ میں قدرے تیزی تھی جو پٹھان قوم کی خاص علامت ہے۔
  • ہر دو ابر و کمان ابرو کے پورے مصداق تھے۔
  • لاغری کے سبب سے چہر ہ میں گدازی نہ رہی تھی مگران میں ملاحت اس قد رعطا ہوئی تھی کہ دیکھنے والے کو اس لاغری کا احسا س بھی نہ ہوتا تھا۔
  • کنپٹیا ں اپنی جگہ بہت مناسب تھیں ۔
  • داڑھی بڑی خوبصورت گردار تھی۔
  • سر مبارک پرپٹے(زلفیں) تھے جو کان کی لو تک تھے۔
  • سرمبارک پر ہمیشہ عمامہ بند ھا رہتا تھا جس کے نیچے دو پلی ٹوپی ضر ور اوڑھتے تھے۔
  • آپ کا سینہ باوجود اس لا غری کے خوب چوڑا محسوس ہوتا تھا۔
  • گرد ن صراحی دار تھی اور بلند تھی جو سرداری کی علامت ہوتی ہے۔
  • آپ کا قد میانہ تھا۔
  • ہر موسم میں سوائے موسمی لباس کے آپ سپید(سفید) ہی کپڑ ے زیب ِ تن فرماتے ۔
  • موسم سرما میں رضائی بھی اوڑھا کرتے تھے۔
  • مگر سبز کا ہی اونی چادر بہت پسند فرماتے تھے اور وہ آپ کے تن ِمبارک پر سجتی بھی خوب تھی۔
  • آپ بچپن ہی میں کچھ روز گداز رہے پھر تو سب نے آپ کو چھریرا اور لاغر ہی دیکھا ۔
  • آپ کی آواز نہایت پر درد تھی اور کسی قدر بلند بھی تھی۔
  • آپ جب اذان دیتے تو سننے والے ہمہ تن گوش ہو جاتے۔
  • آپ بخاری طرز پر قرآن ِپا ک پڑھتے تھے۔
  • آپ کا طرز اداعام حفاظ سے جدا تھا۔
  • آپ نے ہمیشہ ہندوستانی جوتا پہنا جسے سلیم شاہی جوتا کہتے ہیں ۔
  • آپ کی رفتا ایسی نرم کہ برابر کے آدمی کو بھی چلتا محسوس نہ ہوتا تھا۔

(مجدد اسلام از علامہ نسیم بستوی مطبوعہ لاہور ص 33,32)