میں دوبارہ زندہ ہو چکا تھا

مفتی غلام سرورقادری رضوی صاحب اپنی کتاب ’’الشاہ احمد رضا‘‘ میں ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ:

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کی ایک زندہ کرامت’’ شیخ حبیب الرحمن ‘‘کے نام سے آج بھی لاہور میں موجود ہے ۔ شیخ حبیب الرحمن صاحب ’’پراسیکیوٹنگ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ‘‘(حال متعین محکمہ انٹی کر پشن لاہور1971) نے 11اپریل 1971کو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے 51ویں عُرسِ مبارک کے موقع پر لاہور میں اعلیٰ حضرت کی یہ کرامت تقریر میں سُنائی جو اُن کی اپنی آپ بیتی ہے ۔

محترم شیخ صاحب نے فرمایا کہ یہ1920کا واقعہ ہے، میرے دانت نکلنے کا زمانہ تھا، اُس وقت عمر تقریباً ایک سال کی ہو گی ،میرے والدین کے بیان کے مطابق میں اُس وقت بہت کمزور تھا ،بخار کی زیادتی تھی، رفتہ رفتہ بیماری شدت پکڑ گئی اور نمونیہ ہو گیا ،اور سانس بند ہو گیا، حتیٰ کہ میرے والدین نے مجھے مُردہ قرار دے دیا اور رضائی میں لپیٹ کر علیحدہ رکھ دیا ۔ سب گھر والے میری موت کے صدمہ سے رو روکر نڈھال ہو گئے، میں اُن کا اکلوتا بچہ تھا ۔ میرے ماں باپ اعلیٰ حضرت کے زیرِ سایہ ایک قریبی مکان میں رہائش پذیر تھے ۔

اعلیٰ حضرت کو بھی اس اَلم ناک واقعہ کا علم ہو اتو آپ غمگین ہو ئے ،علالت کی تفصیل دریافت فرمائی، چند تعویذ عطا فرمائے اور ہدایت فرمائی کہ ان کی دھونی بچہ کے ناک میں دی جائے۔

میرے ماں باپ کو چونکہ بے حد عقیدت تھی اس لیے اُنہوں نے حسب ِ ارشاد تعمیل کی اور ساتھ ساتھ کفن دفن کی تیاریاں بھی ہو رہی تھیں کہ اچانک رضائی کے اندر سے میرے رونے کی آواز سنائی دی ۔والدہ صاحبہ نے دوڑ کر منہ سے رضائی ہٹائی تو حیران رہ گئی کہ “میں دوبارہ زندہ ہو چکا تھا”۔

ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ یہ اعلیٰ حضر ت کی دُعا کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور رحمت سے مجھ کو ایک مرتبہ پھر زندگی عطا فرمائی میری عمر اب پچاس سال سے کچھ زائد ہے مگر میں اب تک اعلیٰ حضرت کی برکتوں کا اثر اپنے اندر محسوس کرتا ہوں۔

(الشاہ احمد رضا از مفتی غلام سرو رقادری مطبوعہ مکتبہ فریدیہ ساہیوال ص 180)