بارگاہ غوثیت میں مقامِ اعلٰی حضرت

میرے نائب مولانا احمد رضا خان ہیں:

’’علی پورسیداں‘‘ ضلع سیالکوٹ کے مشہور و معروف بزرگ امیرِ ملت حضرت مولانا الحاج پیر سید جماعت علی شاہ صاحب نقشبند ی مجددی محدث علی پوری علیہ الرحمہ کی ذات ِگرامی محتاج تعارف نہیں۔انہیں کا واقعہ ہے کہ اپنے نانا جا ن’’ قطبِ اقطابِ جہاں‘‘’’شہنشاہِ بغداد‘‘سرکارِغوث ِ اعظم رضی للہ تعالیٰ عنہ کی زیارت کا شرف حاصل ہو اتو آ پ سے سرکارِ غوث ِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا :
’’ہندوستان میں میرے نائب مولانا احمد رضا خان ہیں‘‘

چنانچہ امیر ملت حضرت پیر سید جماعت علی شاہ صاحب اعلیٰ حضر ت کی زیارت کے لیے بریلی تشریف لائے اور اعلیٰ حضرت سے یہ خواب بھی بیان کیا ۔ (تجلیاتِ امام احمد رضا از مولانا امانت رسول قادری مطبوعہ برکاتی پبلیشرز ص89)

بریلی میں مولانا احمد رضا خان:

شیر ربانی، حضرت پیر روشن ضمیر،میاںشیر محمد صاحب شرقپوری نقشبند ی کوایک مرتبہ شہنشاہِ بغداد، سرکارِ غوث ِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خواب میں زیارت ہوئی ،میاں صاحب نے دریافت کیا حضور ! اس وقت دُنیامیں آپ کا نائب کون ہے ؟ سرکارِ غوث ِ پاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا:

بریلی میں مولانا احمد رضا خان

بیداری کے بعد صبح ہی کو سفر کی تیاری شروع کر دی، مریدوں نے پوچھا حضور کہاں کا ارادہ ہے ؟ فرمایا : بریلی شریف کا قصد ہے ،رات فقیرنے خواب میں سرکارِ غوث ِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زیار ت کی اور پوچھا حضور اس وقت دُنیا میں آپ کا نائب کون ہے تو فرمایا کہ ’’احمد رضا ‘‘ لہٰذا ان کی زیارت کرنے جا رہا ہوں ۔

مریدوں نے عرض کیا حضور! ہم کو بھی اجازت ہو تو ہم بھی چلیں اور ان کی زیارت کریں آپ نے اجازت عطا فرمائی ۔شیر ربانی میاں شیر محمد صاحب اپنے مریدین کے ہمراہ شرقپور شریف سے بریلی شریف چل دیئے ۔

یہاں بریلی شریف میں اعلیٰ حضرت نے فرمایا کہ آج شیخ ِ پنجاب تشریف لارہے ہیں، اوپر والے کمرے میں ان کے قیام کا انتظام کیا جائے اس کمرے کو صاف کر کے فرش لگایا جائے۔جس وقت شیر پنجاب اعلیٰ حضر ت کے کاشانہء اقدس پر پہنچے تو اعلیٰ حضر ت پھاٹک پر تشریف فرما تھے اور فرما رہے تھے کہ فقیر استقبال کے لیے حاضر ہے۔ مصافحہ ومعانقہ کے بعد پھاٹک والے مکان کے اوپر حضرت کا قیام ہوا، تین روز تک یہیں قیام فرمایا، پھر اجازت چاہی۔
(تجلیات امام احمد رضا از مولانا محمد امانت رسول قادری مطبوعہ برکاتی پبلیشر ز ص97)

قطبُ الارشاد:

خواص ہی نہیں عوام کو بھی بارہا اعلیٰ حضرت کے مقام کے بارے میں سرکارِ غوث پا ک کی طرف سے اشارے ملتے رہے، چنانچہ نامور صاحب ِقلم علامہ ارشدالقادری صاحب ایک واقعہ کی منظر نگاری یوں کرتے ہیں:

’’بریلی کے اسٹیشن پر ایک سرحدی پٹھان کہیں سے اتر ا، متصل ہی نوری مسجد میں اس نے صبح کی نماز ادا کی ، نماز سے فراغت کے بعد جاتے ہوئے نمازیوں کو روک کر اس نے پوچھا ’’یہاں مولانا احمد رضا خان نامی کوئی بزرگ رہتے ہیں ؟‘‘ ان کا پتہ ہو تو بتا دیجئے ۔ ایک شخص نے جواب دیا ۔۔۔ یہاں سے دو تین میل کے فاصلے پر ’’سوداگران ‘‘ نام کا ایک محلہ ہے وہیں اس کے علم و فضل کی راجدھانی ہے ۔ سرحدی پٹھا ن اٹھنا ہی چاہتا تھاکہ اس(نمازی) نے سوال کیا۔ کیا میں یہ معلوم کر سکتا ہوں کہ آپ کہاں سے تشریف لا رہے ہیں؟ جواب دیا سرحد کے قبائلی علاقے سے میرا تعلق ہے ۔ وہیں پہاڑ کے دامن میں ایک چھوٹا ساگاؤں ہے جہاں میرا آبائی مکان ہے ۔

آپ مولانا احمد رضا خان کی تلاش میں کیوں آئے ہیں ؟ اس سوال پر اس کے جذبات کے ہیجان کا عالم قابلِ دید تھا ، فوراً ہی آبدیدہ ہو گیا ۔ ـ’’یہ سوال نہ چھیڑئیے تو بہتر ہے‘‘ کہہ کر خاموش ہو گیا۔اس پر اسرار جواب سے پو چھنے والوں کا اشتیاق اور بڑھ گیا ۔ جب لوگ زیادہ مصر ہوگئے تو اس نے بتایا ۔ ۔۔ میں نے گزشتہ شب ِ جمعہ کو نیم بیداری کی حالت میں ایک خواب دیکھا ہے جس کی لذت میں کبھی نہیں بھولوں گا۔

اے خوشا نصیب! اولیا ئے مقربین اور ائمہء سادات کی نورانی محفل ہے جہاں بریلی کے ’’احمدرضا‘‘نامی ایک بزرگ کے سر پر امامت کی دستار لپیٹی گئی ہے ۔ اور انہیں ’’قطب الارشاد‘‘ کے منصب پر سرفراز کیا گیا ہے۔ میری نگاہوں میں اب تک وہ منظرمحفوظ ہے ۔ اس دن سے میں اس مردِ مومن کی زیارت کے لئے بے تاب ہو گیاہوں ۔

سرحدی پٹھان نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا ۔۔۔آپ حضرات قابلِ رشک ہیں کہ اپنے وقت کے’’ قطب لارشاد ‘‘کے چشمہ ء فیضان کے کنارے شب و روز کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ اتناکہہ کر وہ بے تابیء شوق میں اٹھا اور تیز تیز قدم بڑھاتے ہوئے محلہ سوداگران کی طرف چل پڑا ۔

اس ایک واقعہ میں دوسرے بہت سے غیر معمولی پہلوؤں کے سوا ایک تابناک پہلو یہ بھی ہے کہ عشقِ رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہٖ وسلم کی برکتوں نے آپ کو مناز لِ ولایت میں ایک اہم منز ل، عظیم منصب ’’قطب الارشاد ‘‘ پر فائز کر دیا تھا ۔ اس شانِ ولایت کی توثیق متعدد واقعات سے ہوتی ہے ۔

فرشتوں کے کاندھوں پر’’ قطب الارشاد ‘‘کا جنازہ :

مخدوم ُ الملت ،محدث اعظم ہند حضرت سید محمد کچھوچھوی علیہ الرحمہ اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں:
’’میں اپنے مکان پر (کچھوچھہ شریف میں)تھا، اوربریلی کے حالات سے بے خبر تھا ۔ میرے حضور شیخ المشائخ سید علی حسین اشرفی میاں وضو فرمارہے تھے کہ یکبارگی رونے لگے ۔ یہ بات کسی کی سمجھ میں نہ آئی کہ آپ کیوں رو رہے ہیں ۔ میں آگے بڑھا تو فرمایا کہ: بیٹا میں فرشتوں کے کاندھوںپر ’’ قطب الارشاد ‘‘ کا جناز ہ دیکھ کر رو پڑا ہوں ، چند گھنٹے کے بعد بریلی کا تار ملا(کہ اعلیٰ حضرت کا وصال ہو گیا ہے ) تو ہمارے گھر میں کہرام پڑ گیا۔ (حضرت بریلوی کی شخصیت از مولانا ڈاکٹر غلام مصطفی مطبوعہ جمعیت اشاعت اہلسنت کراچی ص 17-19)