کھلی کرامت اس کو کہتے ہیں

جناب ذکاءاللہ صاحب کا بیان ہے کہ:
ایک دن پھاٹک میں بہت سے مہمان آئے ہوئے تھے، گرمی کا موسم تھا،دوپہر کے کھانے میں مولانا ہدایت رسول صاحب نے فرمایا’’کیاہی اچھاہوتااگراس وقت برف کا پانی ہوتا‘‘۔

یہ جملہ ختم ہی کیاتھا کہ زنانہ مکان کے کواڑ کھلنے کی آواز آئی، دیکھا کہ اعلیٰ حضرت خود بنفسِ نفیس جگ میں برف کا پانی لئے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا:
ذکاءاللہ خان صاحب!یہ برف کا پانی لے جایئے۔۔مولانا ہدایت رسول صاحب نے دیکھا توفرمایا’’کھلی کرامت اس کو کہتے ہیں‘‘۔
(حیاتِ اعلیٰ حضرت ص911 از مولانا ظفرالدین بہاری مکتبہ نبویہ لاہور)